مصنف: شازل
20 - اگست - 2010

حافظ قرآں، ماہ رمضاں اور ماں

ماں آج مجھے کچھ ہو کررہے گا
وہ کیوں بھلا؟ ماں کی پیشانی پر بل پڑگئے۔
یہ جو گلی میں دو لڑکے دکھ رہے ہیں‌ نا، اس نے گلی کی طرف اشارہ کیا، یہ یونہی نہیں کھڑے ہوئے۔
کیوں تم نے ان کا کیا بگاڑا ہے؟
کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ پھر بھی۔ اس کی آواز کہیں بکھر رہی تھی۔
ماں نے گلی میں جھانک کردیکھا۔ وہاں‌ پر اکا دکا لوگ آتے جاتے دکھائی دیے۔
تمھارا وہم ہوگا، ماں کے لہجے میں ہلکا ہلکا خوف جھلک رہا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ موٹر سائیکل پر نکل رہے تھے ابھی انہوں نے کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ ڈز ڈر کی آواز سنائی دی، اور ماں کی جھولی میں بیٹے کا بھیجہ بکھر گیا۔
یہ ہے ٹارگٹ کلنگ کے تازہ شکار کی کہانی۔ ہمارے تمھارے لیے ایک اور واردات، لیکن یہ اس ماں کی کہانی ہے جو ہماری طرح کچھ دیر کے لیے افسوس کرکے بھلا نہیں دیتی، بلکہ تین دن گزرنے کے بعد بھی اسے غش پر غش آتے ہیں۔ یہ اس حافظ کی کہانی ہے جس کی اگلی پچھلی نسلیں بخشش کی منتظر ہیں۔ اس کا گناہ فقط اتنا ہےکہ دہشت گردوں کی لسٹ میں اس کا بھی نام ہے۔

مصنف: شازل
13 - اگست - 2010

ہالوکاسٹ: کثیرالاشاعت کتاب، ایک فراڈ

اس سلسلے میں اینی فرینک کی ڈائری، جعل سازی اور جھوٹ کا شاہکار ہے۔ یہ کتاب کئی سال تک امریکہ اور یورپی ممالک کے نازی دشمن لٹریچر پر چھائی رہی۔ اس کے چالیس ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔ ہالی ووڈ نے اس کی فلم بھی بنائی جوبہت کامیاب رہی۔ لڑکی کے باپ آٹو فرینک نے رائلٹی میں لاکھوں ڈالرکمائے۔ کتاب میں‌اینی فرینک کی زندگی کا المیہ بیان کیا گیا ہے۔ بیان کردہ کہانی انسانی جذبات سے براہ راست اپیل کرتی ہے اور کتاب اور فلم سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ لیکن سات سال بعد انکشاف ہوا کہ ساری کہانی محض‌ فراڈ تھی، اور یہ انکشاف کسی فرد یا اخبار نے نہیں‌ کیا۔ بلکہ اس کا فیصلہ نیویارک سپریم کورٹ نے دیا۔
اینی فرینک کی ڈائری کے متعلق ناشر نے لکھا تھا کہ یہ ایمسٹرڈم کی ایک یہودی لڑکی نے بارہ برس کی عمر میں‌ اس وقت لکھی جب اس کا خاندان اور چار دیگر یہودی جرمنی کے زمانہ تسلط میں‌ ایک مکان کے پچھواڑے کے ایک کمرے میں چھپے رہے تھے۔ پھر کسی نے مخبری کی اور جرمنوں‌ نے انہیں‌ گرفتار کرکے کنسٹریشن کیمپ میں ‌بھیج دیا۔ جہاں اینی فرینک چودہ سال کی عمر میں مر گئی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد آٹو فرینک کیمپ کے زنداں سے آزاد ہو کر ایمسٹرڈم پہنچا جہاں‌ پناہ گاہ سے اسے اپنی بیٹی کی ڈائری مل گئی، جسے اس نے پرچھتی میں چھپا دیا۔ اس ڈائری کی اصل حقیقت پہلی مرتبہ سویڈن کے ایک اخبار “فرایاارڈ“ نے آشکارا کی۔ اس نے یہ خبر چھاپ کر لوگوں کو انگشت بدنداں کردیا کہ ڈائری کے مکالمے مشہور ناول نگار میئرلیون نے لکھے تھے اور اب اس نے معاوضے کی ادائیگی کے لیے آٹوفرینک کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کردیا ہے۔ نیویارک سپریم کورٹ جیوری نے میئرلیون کے حق میں‌فیصلہ دے دیا اور کہا کہ آٹوفرینک نے اسے طے شدہ پچاس ہزار ڈالر ادا کرے۔ آٹوفرینک نے اس کے خلاف اپیل دائر کی اور ٹرائل جسٹس سیموئل سی کولمن (یہودی) نے محض فنی بنیاد پر اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ میئر لیون نے فیصلے کے خلاف اپیل کردی۔ ابھی یہ اپیل زیرسماعت تھی کہ آٹو فرینک نے میئرلیون سے راضی نامہ کرلیا۔
اینی فرینک کی ڈائری چپھنے کے کچھ عرصے بعد 1958ء میں‌ایک اور ڈائری شائع ہوئی جس کا نام تھا۔Notes From The Warsaw Ghetto لکھنے والا عمانویل رنگلبم تھا۔ یہ شخص پولینڈ میں جرمنوں کے خلاف چلائی جانے والی سبوتاژکی مہم کا لیڈر تھا۔ وارسا غیتو کی بغاوت 1943ء کا سرخیل بھی یہی تھا۔ آخر گرفتار ہوا اور 1944ء میں‌اسے پھانسی دے دی گئی۔ یہ ڈائری بھی ہوئز کی آپ بیتی کی طرح پولینڈ کی کمیونسٹ حکومت نے چھاپی۔ کتاب کا سارا دارومدار افواہوں پر ہے۔ امریکی ایڈیشن کے پبلشر میک گراہل اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے وارسا میں اصل غیر سنسر شدہ مسودہ دیکھنے کی کوشش کی مگر اس تک رسائی نہ ہوسکی۔ اس لیے کمیونسٹ حکومت کی کانٹ چھانٹ کے بعد وارسا میں 1952ء میں شائع ہونے والی کتاب کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کرلیجئے کیا اس قسم کی کتابوں کو تاریخی دستاویزات کی حیثیت دی جاسکتی ہے۔
انہی دو کتابوں پر موقوف نہیں جنگ کے بعد کنسٹریشن کیمپوں کے متعلق جتنی کتابیں شائع ہوئی ہیں اور جن میں‌ایک دوسرے سے بڑھ کر ہولناک افسانہ طرازی کی گئی ہے تقریبا سب کی سب یہودیوں کی لکھی ہوئی ہیں۔ جن میں تاریخی حقیقتیں بری طرح مسخ کردی گئی ہیں۔ ایسی ہی ایک کتاب1973ء میں Those I Loved چھپی۔ مصنف کا نام مارٹن گرے تھا۔ اس میں اس نے ٹربیلنکا کیمپ میں‌ اپنے مبینہ تجربات بیان کیے ہیں۔ ان صاحب کے بارے میں یہی کہہ دینا کافی ہوگا کہ جعلی نوادرات بیچنے میں امریکہ بھر میں مشہور ہیں۔ ان کی کتاب پڑھ کر خود یہودیوں نے سرپیٹ لیا اور اپنی جعل سازی کی دلفریب عمارت زمیں بوس ہوتے دیکھ کر اسے فراڈ قرار دیا۔
یوں ٹربیلنکا کا افسانہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ لندن کے جیوش کرانیکل (30مارچ 1973ء) نے گرے کی کتاب کو جھوٹ کا مرقع قرار دے کر مسترد کردیا۔ لیکن ٹربیلنکا کیمپ کے متعلق لکھا “وہاں روزانہ 18000 یہودی سال بھر گیس چیمبروں میں جھونکے جاتے رہے، اسی طرح تقریبا دس لاکھ انسان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ جیوش کرانیکل کی اشاعت لاکھوں‌ تک پہنچتی ہے لیکن کسی ایک قاری نے بھی اس بیہودگی پر احتجاج نہ کیا کہ اگر روزانہ 18000 ہزار یہودی گیس چیمبروں کے حوالے کیے جارہے تھے، دس لاکھ تو 56 دن کے اندر اندر ختم ہو گئے باقی 309 دنوں میں جو لوگ قتل کئے گئے انہیں معزز ایڈیٹر نے کہاں غت ربود کردیا؟ جیوش کرانیکل کے اعداد وشمار کے مطابق تو صرف ٹربیلنکا میں قتل ہونے والے یہودیوں کی تعداد 64لاکھ 80 ہزار بنتی ہے۔ (جاری ہے)۔

اینی فرینک

مصنف: شازل
10 - اگست - 2010

ہفتہ کتب : عامیانہ ادب

شہر سے پرے ایک لائبریری آخر کس قدر بڑی ہو سکتی تھی بالاخر فیصلہ کرنا ہی پڑا، ایک دوست کو درخواست کی کہ وہ شہر کی بڑی لائبریری سے میرا تعارف کرادے۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ وہ لائبریرین کسی سوالی کو مایوس نہیں لوٹاتا تھا۔ محض گھر کا پتا پوچھ کر وہ کتاب حوالے کردیتا تھا۔ یہاں وہ کتب بھی دسیتاب تھیں جن کے پڑھنے کی ایک حسرت تھی۔ میں روز ہی کتابیں لانے لگا، چاہے ایک کتاب گھر میں پڑی ہو، میں‌نے لائبریری جانا معمول بنا لیا۔ اور پھر راستے میں سائیکل پر کتاب کی ورق کرانی میری عادت ٹھہری۔ اس بات پر کئی تبصرے سننے کو ملتے تھے۔ انہی دنوں‌ مجھ پر منکشف ہوا کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ کچھ لکھنے پر دل مائل ہے۔ ایک دورہ سا پڑتا اور میں حال دل لکھنے بیٹھ جاتا۔ جب تک لکھ نہ لیتا، نہ دل کو چین ہوتا نہ قرار۔ حال دل کاغذ پر اتارنے کے بعد یونہی اسے ادھر ادھر پھینک دیتا۔ ایک دن ڈائری لے آیا اور باقاعدہ اس پر لکھنے لگا۔ اس لکھنے کی عادت نے کہانیوں سے قدرے دور کردیا بلکہ دل اچاٹ ہی ہو گیا۔ مظہر کلیم ایم اے صاحب کی عمران سیریز کا مطالعہ کررہا تھا کہ جی میں جانے کیا آئی کہ ایک دم کتاب کو دیوار پر دے مارا، بے اختیار میرے منہ سے نکلا “یہ کیا فضولیات ہے“۔ اس دن کے بعد کلیم صاحب کو پڑھنا چھوڑ دیا۔ آخر ایک مصنف کی یکسانیت نے میرے اندر گرہ لگادی تھی۔
محترم مشتاق احمد قریشی ایک رسالہ نکالتے تھے جو اب بھی نکل رہا ہے۔ نئے افق کے عنوان سے اس رسالے میں ابن صفی کی عمران سیریز کا ناول ہوتا تھا ایک بار جو پڑھا تو پھر انہی کا ہو رہا، مظہر کلیم، صفدرشاہین اور ایک قادری صاحب بھی اس میدان میں‌تھے وہ ایک طرف ہو گئے اور ابن صفی نے ان کی جگہ لے لی۔ صفی صاحب کے ناولوں کی اتنی لت پڑی کہ لائبریرین نے میرےاصرار پر ناولوں کا پورا سیٹ منگوالیا۔ جاسوسی دنیا پہلے ہی لائبریری میں موجود تھی‌۔ نئے افق وقتا فوقتا ابن صفی نمبر شائع کرتا رہتا تھا۔ الف لیلٰہ ڈائجسٹ نے بھی ابن صفی نمبر شائع کیے، عمران سیریز میں جس اور مصنف نے مجھے متاثر کیا وہ ایچ اقبال مرحوم تھے۔ انہوں نے اپنی ایک الگ شناخت بنائی اور خود ان کے تخلیق کردہ کردار میجر پرمود پر تو اور بھی مصنیفین نے طبع آزائی کی۔ بعد میں یہ روایت بنتی چلی گئی کہ عمران ، فریدی اور حمید ، پرمود کو اکٹھا کردیا گیا، خود ابن صفی مرحوم نے بھی شاید زمین کے بادل میں عمران اور فریدی اور حمید کا ایک ساتھ کارنامہ پیش کیا تھا۔
بڑی عجیب بات ہے کہ ہم مغرب کو فالو کرنے میں تو عار نہیں سمجھتے لیکن جاسوسی ادب کو اپنے ہاں کوئی مقام دینے کو تیار نہیں، بہت سے لوگ سری ادب کو عامیانہ سمجھ کر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہےکہ ابن صفی کے بعد کسی نے اس کام کو آگے نہیں‌بڑھایا۔ اب اگر مظہر کلیم اور ان جیسے کئی لوگوں کی تحریروں کو ادب کہہ بھی دیں تو کیا یہ زیادتی نہ ہوگی۔ یہ اور بات ہے کہ لچر پن کو قدرے ڈھنگ سے پیش کرکے ہم نے ادب کی خوب خدمت کی ہے۔ ان ٹھیکداروں‌ نے عورت کو ننگا کرکے پتا نہی‌کونسے جذبے کی تسکین کی ہے، شاید وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ بھرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔‌
حب الوطنی پر مبنی کہانیوں نے مجھ پر اس قدر اثر ڈالا تھا کہ میں‌ چودہ اگست پر بکھری ہوئی جھنڈیاں اٹھا اٹھا کر تھک جاتا تھا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ سینما پر فلم کے شروع ہونے سے پہلے قومی ترانے پر میں‌واحد بندہ ہوتا تھا جو اس کے احترام میں کھڑا ہوتا اور کبھی کبھار ہوٹنگ کا شکار بھی ہوتا۔ مطالعہ انسان پر ضرور اپنے نقش چھوڑتا ہے، فطری جذبوں‌ پر مہمیز کا کام دیتا ہے، قوت مشاہدہ کو تیز کرتا ہے اور سب سے اہم یہ کہ انسان حساس بن جاتا ہے، یہ تینوں چیزیں جب اکٹھا ہوتی ہیں تو معاشرے کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہیں۔
شہر کے وسط میں واقع سرکاری لائبریری جب میں نے ‌دیکھی تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ نادر و نایاب کتب الماریوں میں‌ اتنی ناقدریوں کا شکار تھیں کہ لگتا تھا سالوں انہیں‌ کسے نے چھوا بھی نہ ہو۔ دیمک نے کئیوں‌ کی جلدیں خراب کردی تھیں۔ اور کئی تو ادھ کھائی تھیں۔ میں‌نے لائبریرین سے پوچھا کہ یہ کتب کہاں‌سے آئی تھیں‌تو انہوں‌ نے کہا کہ بہت سےلوگوں نے کتابیں لائبریری کو وقف کردیں ہیں‌اور کئی ایسے بھی ہیں جو بہت ہی نادر کتب اٹھا کرلے گئے اور آجتک واپس نہ کیا۔ میں‌ نے سوچا ہونگے کوئی کتابوں کے دیوانے، ورنہ یہاں‌ پڑے پڑے دیمک ہی چاٹ‌جاتی۔ میں نے اکثر لوگوں کو اخبارات کا مطالعہ کرتے ہی دیکھا، کوئی ایک بھی میری نظر سے نہیں‌گزرا جو کتاب لینے آیا ہو۔

مصنف: شازل
06 - اگست - 2010

اردو نامہ کی کہانی

آج ہی فورم پر ایک صاحب نے اردو نامہ فورم کے بارے میں ‌پوچھا کہ یہ کس طرح وجود میں آیا تھا تو جواب میں ماجد بھائی نے جو رام کہانی سنائی وہ آپ بھی سنیں ۔ توحاضر ہے اردو نامہ فورم کی کہانی ماجد بھائی کی زبانی۔
“تو دوستو اردونامہ شروع کب اور کیسے ہوا اس کے پس منظر میں ایک پوری کہانی ہے۔اگر اس کے آغاز کے بارے میں سننا ہے تو پہلے ساری کہانی سننا ہو گی ورنہ ہم نہیں سنائیں گے۔
تو جناب ہوا کچھ یوں کہ ہمارے شہر میں 2000 میں انٹرنیٹ آیا، اس سے پہلے ہم کمپیوٹر سے تھوڑی شدبد رکھتے تھے لیکن انٹرنیٹ کس بلا کا نام ہے اس کا شاید کچھ زیادہ علم نہیں تھا ہاں ایک کزن تھے جنہوں نے پی ٹی سی ایل سے اسپیشل فسلٹی کے تحت ساہیوال کی لائن سے انٹرنیٹ حاصل کر رکھا تھا ان کے کمپیوٹر پر ایک دو بار انٹرنیٹ دیکھنے کا موقع ملا لیکن وہ انٹرنیٹ یہ والا انٹرنیٹ نہیں تھا جو ہم آجکل دیکھ رہے ہیں بلکہ وہ والا تھا جس کی اردونامہ پر سختی سے پابندی ہے۔ یعنی وہاں صرف ان ویب سائیٹس کو دیکھا جاتا تھا جن میں عریانی ہوتی تھی۔
اس لئے ہمیں انٹرنیٹ کی سوجھ بوجھ نہ ہو سکی۔ 2000 میں جب ہمارے شہر میں انٹرنیٹ آیا تو پھر ہم نے بھی انٹرنیٹ سے پنجہ آزمائی شروع کی لیکن افسوس کئی سال یہ پنجہ آزمائی یاہو چیٹ روم، ایم ایس این چیٹ رومز اور میلز تک محدود رہی اور ہم اسی کو انٹرنیٹ کا جہاں سمجھتے رہے۔اور اس کام میں، میں اور میرا ایک دوست ندیم کافی تیز تھے چیٹ روم میں لڑکی بن کر داخل ہونا اور لڑکوں کو الو بنانا ہمارا محبوب مشغلہ تھا، اس کے بعد آہستہ آہستہ ہمیں شوق چرایا کہ ہم کمپیوٹر کو باقاعدہ سیکھیں، یعنی اس سے پہلے ہم ونڈوز کی انسٹالیشن کے لئے بھی دوسروں کے محتاج تھے۔ اس کام کے سیکھنے کے لئے ہم نے اپنے کچھ دوستوں کا چنا جو پہلے سے کمپیوٹر کا کام جانتے تھے اور دو تو باقاعدہ کمپیوٹر شاپ چلا رہے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ ہمارا یہ علم صرف ہماری اپنی ضرورت یعنی ونڈوز وغیرہ کی انسٹالیشن تک ہی محدود رہتا لیکن ایک واقعہ نے ہماری سوچ ہی بدل دی ہواکچھ یوں کہ ایک دن ہم اپنے ایک کمپیوٹر کی دکان والے دوست کے پاس بیٹھے تھے اور وہ ایک کمپیوٹر میں پارٹیشن حذف کرکے دوبارہ سے پارٹیشن بنا رہا تھا، ونڈوز 98 تک یہ عمل واقعی ایک مشکل کام تھا اور عام یوزر اس کے کرنے سے تقریبا عاری تھا۔میں نے بیٹھے بیٹھے اپنے اس دوست سے جو اس وقت وہ عمل کر رہا تھا اس کا طریقہ دریافت کرنا چاہا تو اس نے ایک بڑی عجیب اور گھٹیا حرکت کی اس نے مانیٹر کا رخ میری طرف سے دوسری طرف پھیرا اور کہا کہ یہ کام نہ تو تمہارے بس کا ہے اور نہ ہی اتنی آسانی سے کسی کو سکھایا ہی جا سکتا ہے۔بس یہ سننا تھا کہ میرا اور ندیم کا غصے اور شرمندگی سے برا حال ہو گیا ہم نے اس بات کو اپنی بدترین بے عزتی سمجھتے ہوئے ہر وہ کام کرنے کا سوچا جو ہمارے کسی بھی دوست کو آتا تھا اور نہ صرف سیکھنے کا سوچا بلکہ اس کو اس نہج پر سیکھنے کا سوچا کہ انہیں پیچھے چھوڑ دیں۔اور پھر اللہ تعالٰی کی مہربانی سے ہم نے پاگلوں کی طرح کمپیوٹر کی الف ب کے بارے میں سیکھنا شروع کر دیا،یہ وہ وقت تھا جب ہم نے انٹرنیٹ کا اصل استعمال سیکھا ہم سیکھنے کسی کمپیوٹر کالج نہیں گئے کسی کمپیوٹر کی دکان پر نہیں گئے جو جہاں سے ملا وہاں سے لیا، ایک عادت بنا لی کہ جو بھی جہاں بھی کمپیوٹر پر کچھ کرتا نظر آیا اگر نیا ہوتا تو اسے صرف دیکھتے رہتے اور ذہن نشین کرتے رہتے پھر گھر آ کر اپنے اپنے کمپیوٹر پر اسے دہراتے، چاہے وہ سافٹ وئیر ہوتا یا ہارڈوئیر کا کام ہم تجربے کرتے اور آخرکار ہم دونوں نے اپنے کمپیوٹرز کا کباڑہ کر دیا پھر بھی اگر کچھ سمجھ نا آتا تو انٹرنیٹ سے مدد مانگتے جس نے آج تک ہمیں مایوس نہیں کیا۔ پھر الحمداللہ ایک دن وہ آ ہی گیا کہ ہم نو سیکھئے اس نہج پر جا پہنچے کہ وہی دوست جس نے ہمیں پارٹیشن بنتی دکھانے سے بھی انکار کر دیا تھا وہ جب بھی کسی مسئلے میں اٹک جاتا ہمیں فون ضرور کیا کرتا کہ شاید ان کے پاس اس کا کوئی حل ہو اور الحمداللہ اس کے اسی فیصد سوالات کے جوابات ہمارے پاس موجود ہوتے تھے۔بس یوں سمجھئے کہ اس سارے عرصے میں ہم اپنے دوستوں میں کمپیوٹر کے غنڈے ٹھہرے کہ جن کے آگے کمپیوٹر پھوں پھاں نہیں کرتے تھے۔اسی دوران ہم نے کمپیوٹرز پر اور انٹرنیٹ پر بہت کچھ نیا سیکھا ہیکنگ کے چھوٹے چھوٹے سافٹ وئیرز کی مدد سے دوستوں کے ای میلز ایڈریس ہیک کرنا اور ان کے کمپیوٹرز میں داخل ہونا ایک ایسا عمل تھا جس نے دوستوں کے دل میں ہماری دھاک بٹھا دی۔
2003 میں ایک دن مجھے ایک میل ملی جس میں کسی نے ہاٹ میل کے میل والے صفحہ کو رومن پنجابی میں تبدیل کیا ہوا تھا، دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی تھی تو یہ ایک شرارت ہی لیکن اس شرارت نے ہمارے اندر ایک اور خواہش جگا دی، وہ خواہش تھی کسی بھی ویب صفحہ کو تبدیل کرنے کی، ہمیں نہیں پتہ تھا کہ ویب صفحہ کیسے بنتا ہے سرور کیا ہوتا ہے اور اس پر ویب کیسے کام کرتی ہے، بس ہم نے یہ کام شروع کر دیا کہ کوئی بھی ویب صفحہ اپنے کمپیوٹر پر محفوظ کرتے اور اس میں موجود عبارت رومن اردو میں تبدیل کر دیتے،یہاں یہ بتا کر میں آپ سب کو حیران کر دینا چاہوں گا کہ شروع میں ہم تمام ویب صفحات کو DOS کے ایڈیٹر میں ایڈیٹ کیا کرتے تھے یعنی ہمیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس کام کے لئے سافٹ وئیر کونسے ہوتے ہیں یا یہ کام نوٹ پیڈ میں آسانی سے ہو سکتا ہے۔
پھر یہاں سے تھوڑی ترقی کی اور سوچا کہ کیوں نہ اپنا ویب صفحہ بنایا جائے، اب چونکہ ایچ ٹی ایم ایل کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا اس لئے مائیکروسافٹ فرنٹ پیج کا انتخاب کیا اور بہت ہی بے ڈھنگے ویب صفحے بنائے۔لیکن وہ سب اپنے کمپیوٹر پر ہی محفوظ کر کے خوش ہوتے اور دوستوں کو بھی گھر بلا بلا کر دکھاتے اور داد وصول کرتے۔ تھوڑا آگے جا کر ہمیں اپنی ویب انٹرنیٹ پر شئیر کرنے کا خبط ہوا تو ہم نے اس کے بارے میں بھی انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کیں اور آخرکار پہلا ویب صفحہ اپنے کمپیوٹر سے انٹرنیٹ کی ایک فری سائیٹ پر اپلوڈ کر لیا، یہاں یہ بات دلچسپی والی تھی کہ اس ویب صفحہ کے تمام لنکس میرے کمپیوٹر والے تھے حتی کہ جو تصاویر اس صفحہ پر موجود تھیں ان کا ایڈریس بھی میرے کمپیوٹر کا ہی تھا اس سے ہوا یہ کہ میرے کمپیوٹر پر تو وہ ویب بالکل درست کام کرتی تھی لیکن اور کسی کمپیوٹر پر نہ تو تصاویر نظر آتی تھیں اور نہ ہی کوئی لنک کام کرتا تھا۔ پھر اس پر کام شروع ہوا اور کرتے کرتے ہمیں ویب صفحہ (فرنٹ پیج میں) بنانا بھی آ گیا اور اسے اپلوڈ کرنا بھی آ گیا۔ پھر ہم نے کچھ کچھ ایچ ٹی ایم ایل کے بارے میں بھی منہ مارنا شروع کر دیا۔اور اس قابل ہو گئے کہ تھوڑی بہت سمجھ آنا شروع ہو گئی کہ بیک انڈ پر یہ کمانڈ کیا کام کرتی ہے۔
اوپر موجود تمام عمل جو بیان کیا گیا ہے اس کے دوران مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہوا کہ انٹرنیٹ پر ہماری مدد کرنے والی زبان صرف انگریزی ہی تھی اور کوئی زبان خاص طور پر اردو ہمیں انٹرنیٹ پر سرے سے ملی ہی نہیں۔جس کا مجھے شدید رنج ہوا۔اور میں نے سنجیدگی سے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ میں انٹرنیٹ پر اردو زبان کے فروغ کے لئے کچھ کروں۔
اب میں نے جو بھی ویب صفحہ بنایا وہ ان پیج میں لکھ کر اسے تصویری شکل میں حاصل کرنے کے بعد ویب صفحہ پر لگایا اور اس میں کوئی نہ کوئی معلومات شئیر کرنے کی کوشش کی۔اسی دوران مجھے اردو کی ایک معیاری سائیٹ اردولائف نظر آئی جو تصویری اردو پر مشتمل تھی اور اس کے مالک امجد شیخ تھے جو سویڈن میں مقیم تھے، امجد شیخ ایک صاحبِ ذوق شخ تھے اسی وجہ سے ان کی پاکستان میں شاعر حضرات سے خاصی جان پہچان تھی، انہوں نے اپنی سائیٹ پر ایک ای میل سسٹم ڈولپ کیا جس میں ان کے بنائے ہوئے اردوپیڈ سے یونیکوڈ اردو میں لکھا جا سکتا تھا ، امجد شیخ صاحب سے ہماری تھوڑی سی دعا سلام یوں ہوئی کہ انہوں نے پاکستان میں انٹرنیٹ پر دنیا کا پہلا آن لائن مشاعرہ کروانے کا اہتمام کیا جس میں دنیا بھر سے بہت سارے شعرا حضرات نے حصہ لیا اور پاکستان سے بھی کافی سارے نامی گرامی شعرا نے حصہ لیا پاکستان نے اس مشاعرے میں انٹرنیٹ تک رسائی اور انتظامات کے لئے فنی معاونت کےلئے چنی جانے والی ٹیم میں میں بھی شامل تھا۔اسی تعلق کی بنا پر میں نے اردولائف سے ان کا بنایا ہوا اردو ویب پیڈ چرالیا تب تک مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ ہے کیا، اسے انٹرنیٹ پر ایک ویب صفحہ بنا کر شئیر بھی کر دیا لیکن اس کا کام یہی تھا کہ آپ اس میں لکھیں اور کاپی پیسٹ کر کے جہاں جی چاہے لے جائے، بعد میں جب کچھ دنوں بعد ضمیر نے ملامت کی اور دل کیا کہ انہیں بتا دیں تو انہیں ایک میل لکھی جس میں اس ویب صفحہ کا ایڈریس بھی دے دیا جہاں یہ پیڈ لگایا تھا، جواب میں ان کی ایک بہت غصہ والی ای میل آئی جس میں انہوں نے بتایا کہ یہ پیڈ ان کی سالوں کی محنت ہے اور اس ویب پیڈ کے لئے بی بی سی اردو نے انہیں ایک نہایت خطیر رقم کی آفر بھی کی ہے، انہوں نے بتایا کہ اس سے وہ اردوکی خدمت تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اس انداز میں نہیں کہ ہر ایرا غیرا اس اردوپیڈ کو اپنی سائیٹ پر لگاتا پھر اور مجھے سختی سے اسے ہٹانے کا کہا بلکہ ایک شاعر دوست کو اس کام پر مقرر کیا کہ وہ صفحہ حذف کروائیں، وہ صفحہ تو حذف کر دیا لیکن پھر اسی تجسس میں لگا رہا کہ اچانک اردو محفل فورم تک جا پہنچا وہاں پر مجھے اس طرح کی بہت ساری معلومات اور اشیاء ہاتھ لگیں کہ میں باغ باغ ہو گیا کہ امجد شیخ نے جس ویب پیڈ کے لئے اتنی سختی سے منع کیا تھا اردومحفل والوں نے وہ مفت میں دیا ہوا ہے۔
اسی دوران میں اپنی ایک Static ویب سائیٹ مکمل اردوزبان میں بنا چکا تھا جس میں تمام معلومات اردو زبان میں موجود تھیں لیکن اس کے ساتھ جو فورم بنایا گیا تھا وہ مکمل انگریزی زبان پر مشتمل تھا کہ اس وقت تک اردوفورمز ایک دو ہی تھے اور ہمیں علم ہی نہیں تھا کہ اردوفورم کیسے بنتا ہے۔وہاں ایک پلگ ان بھی موجود تھا جس کے ذریعے یوزرز کی ایک لسٹ بنتی تھی تاکہ ان کے ای میل ایڈریس رجسٹر کیئے جا سکیں اور بعد میں ویب سائیٹ کی اپڈیٹ یا کسی اور موقع پر انہیں اطلاع دی جا سکے۔ اور تو اطلاع شاید ہی میں نے دی ہو گی بس اس کا استعمال سائیٹ میں کسی اپڈیٹ اور عیدین کی مبارکباد کے لئے استعمال کیا۔
ایک عید کے موقع پر دوستوں کو مبارکباد کا پیغام بھیجا تو وہ بھی انگریزی زبان پر مشتمل تھا، ہمارے اردونامہ کے سب سے پرانے اور سب سے بہترین رکن رضی بھیا کا جوابی پیغام آیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ایک اردو سائیٹ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ پیغام انگریزی میں لکھیں اور سائیٹ اردو کی ہو۔ بس یہی وہ پیغام تھا جس نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں ایک اردوفورم بناؤں، اردومحفل کی ٹیم سے مدد حاصل کرکے میں نے 2007 کے آخر میں اپنی زندگی کا پہلا اردوفورم بنایا جس کا سب سے پہلا پیغام میں نے رضی بھیا کو بھیجا اور سب سے پہلے باقاعدہ رکن بھی رضی بھیا ہی بنے، بہت مہینے تک میں رضی بھیا اور پپو ڈاکٹر ہی وہ تین افراد تھے جو اردونامہ کے باقاعدہ رکن تھے جو آپس میں ہی ایک دوسرے سے باتیں کرتے اور اردوکی ترویج کا خواب دل میں سجائے رکھتے۔
اس کے بعد کچھ اور اراکین نے شمولیت حاصل کی لیکن کوئی بھی زیادہ دنوں تک ٹھہر نا سکا جس کی بنیادی وجہ اردونامہ فورم کا ایک فری سرور پر موجود ہونا اور فری سرور کے سینکڑوں نخرے تھے۔ بہرحال پھر بھی ہم نے یہ فورم چلائے رکھا۔ پھر مجیب منصور بھیا وہ پہلے رکن تھے جنہوں نے صحیح معنوں میں اردونامہ کو باقی اردوفورمز پر متعارف کروایا اور وہاں سے کافی کارآمد یوزرز اردونامہ پر لائے، اور شاید انہی لائے گئے یوزرز میں سے ایک ہمارے شازل بھیا تھے۔
شازل بھیا کی آمد کے ساتھ ہی اردونامہ کی جون بدلنے لگی، سب سے پہلے تو انہوں نے اردونامہ کے لئے ڈومین خریدنے کی بات کی جو بہرحال خرید ہی لیا گیا اس کے بعد انہوں نے اردونامہ کو اپنی ہوسٹنگ پر منتقل کرنے کے لئے ہمیں ٹہوکے مارنا شروع کر دیئے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اردونامہ کے لئے اپنی فنی خدمات بھی فراہم کیں اور اسے ایک بہت خوبصورت فورم میں بدل دیا۔
انہی کے اکسانے پر اردونامہ کو ایک دوست کی طرف سے مستعار دی گئی ہوسٹنگ پر منتقل کیا گیا، اس منتقلی کے فورا بعد اس پر شازل بھیا کو ایڈمن کے اختیارات دے دیئے گئے جنہوں نے شبانہ روز محنت سے اردونامہ کی شکل ہی بدل دی اسے اپگریڈ کیا اس پر لاتعداد تبدیلیاں کیں اس کے نت نئے تھیم اردووائے اور اسے اچھے اردوفورمز کی صف میں سر اٹھا کر کھڑا ہونے کے قابل بنا دیا ان کا یہ عمل آج بھی اسی شدت سے جاری و ساری ہے۔
اردونامہ تخلیق ہو گیا اور ایک اچھے فورم کی شکل اختیار کر گیا تو اس پر آپ جیسے دوست آنا شروع ہو گئے جنہوں نے اس کی ترویج و ترقی میں بلاشبہ ایک بہترین کردار ادا کیا اور کچھ ہی عرصے میں اردونامہ کو مقبولیت دلا دی۔
اسی دوران 2009 میں ہمارے دوست ندیم صاحب جو ہمارے سیکھنے کے تمام عمل میں ہمارے ساتھی تھے انہیں پنجاب سیکرٹیریٹ میں ایک بہت اچھی نوکری مل گئی اور وہ ہمیں چھوڑ کر وہاں چلے گئے جس کے ساتھ ہی ہمیں بھی زنگ لگ گیا جو سیکھا تھا وہ بھول رہا ہے اور نیا سیکھنے کو خبط شاید ہمیشہ کےلئے چلا گیا ہے۔
تو دوستو یہ تھی ہماری کمپیوٹر کہانی اور اردونامہ کی تخلیق کی کہانی کہئے کس کس نے پوری پڑھی اور کسے کیسی لگی؟؟؟؟؟
اب ہم تو چلے کیونکہ ہمارا دوست ندیم آج لاہور سے واپس گھر چھٹی گزارنے آ رہا ہے اور اس کی چھٹیوں کی راتیں دو سے تین بجے تک ہمارے ساتھ ہی گزرتی ہیں۔”

مصنف: شازل
05 - اگست - 2010

کتابیں میرا سرمایہ

بچپن ہی سے دیکھتا آیا تھا کہ ابو جب بھی دفتر سے آتے تو کوئی نہ کوئی کتاب اٹھا کر پڑھنے لگتے۔ مجھے یہ اشتیاق تھاکہ وہ یہ کتابیں کہاں سے لاتے ہیں ایک دن وہ مجھے ایک دکان پر لے گئے۔ کیا دیکھا کہ ہزاروں کی تعداد میں کتابیں ریکوں میں رکھی ہوئی، ادھر ادھربکھری ہوئی اور لٹکی ہوئی ہیں۔ یہ تھا لائبریری سے میرا پہلا تعارف۔ گھر میں ڈائجسٹ اور ناول دیکھ دیکھ کر میرا بھی دل پڑھنے کو کرتا تھا لیکن جانے کیوں ابو اس بات سے خفا ہوتے اور وہ مجھے بہت سختی سے منع کرتے تھے۔ تجسس انسان کی گھٹی میں‌پڑا ہوا ہے میں چوری چوری ان کتابوں کو پڑھنے لگا۔ بہت سی باتیں مجھے نامانوس لگتیں۔ جیسے وہسکی کا ذکر ہوتا جسے ہر دوسرا کردار پی رہا ہوتا۔ ایک دن میں نے ابو سے وہسکی کے متعلق پوچھا کہ یہ کیا ہوتی ہے تو انہوں نے وہ جھانپڑ مارا کہ میرا گال اب بھی سنسنا اٹھتا ہے۔ ابو کئی طریقے اختیار کرتے، کبھی تکیے کے نیچے چھپا کر رکھتے، کبھی کسی اونچی جگہ رکھتے اور کبھی ٹرنک میں‌رکھ دیتے لیکن میں کتابوں کی بو سونگھ ہی لیتا۔ اور جب ان کے آنے کا وقت ہوتا تو ناول یا ڈائجسٹ کو واپس اپنی جگہ پر رکھ دیتا۔ ایک دن میری دوستی ایک ایسے لڑکے سے ہو گئی جو عمران سیریز کا عاشق تھا۔ میں یہ ذکر شاید پہلے بھی کرچکا ہوں کہ میرا کس طرح عمران سیریز سے تعارف ہوا تھا۔
ہمارے گھر سے کچھ دور ایک لائبریری تھی، میں‌نے کسی نہ کسی طرح ابوکو راضی کرلیا کہ میں بچوں کی کتابیں وہاں سے لوں۔ ابتدا کچھ عمران سیریز اور اشیتاق احمد کے ناولوں سے کی۔ پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ ایک عجیب دنیا تھی جو کتابوں میں آباد تھی۔ میں بھی کرداروں کے ساتھ ساتھ رہتا جو ان پر بیتتی وہ میں بھی محسوس کرتا تھا وہ مشکل میں ہوتے تو میری بے چینی دیدنی ہوتی تھی۔ وہ معرکہ سر کرتے تو مسکراہٹ میری چہرے سے عیاں ہوتی۔ کیسی دنیا تھی جس کے لیے میرا کھانا پینا چھوٹ گیا تھا۔ جیب خرچ کرائے کی کتابوں پر صرف ہوتا۔ اس عمر میں تو بچوں کے شوق ہی دوسرے ہوتے ہیں۔ میں اسی وقت سے دوسروں سے کٹ رہا تھا۔ ہر وقت کھویا کھویا رہتا، میرے دوست ناول کے وہ کردار تھے جن کے ساتھ میں کھیلتا، ہنستا اور روتا۔ حقیقی دینا میرے لیے کوئی حیثیت نہیں‌رکھتی تھی۔ جذباتی پن مجھ پر غالب آتا گیا۔ چھوٹی چھوٹی باتیں دل پر لے لیتا تھا۔ شاید آج بھی میں اسی دنیا سے منسلک ہوں، کئی حقیقتیں مجھ پر عیاں بھی ہو چکی ہیں لیکن کتابوں کا اثر ویسا ہی ہے۔
قمر اجنالوی صاحب کا چاہ بابل جس کی ضخامت اچھے اچھوں کو پاگل کردینے کے لیے کافی ہے، میں ان دنوں پڑھ رہا تھا جب ایک شادی کے سلسلہ میں شہر گیا ہوا تھا۔ دوسرے بچے کھیل کود میں لگے رہتے اور میں ایک کونے میں دبکا ان کرداروں میں گم ہوتا۔ ایسے میں بڑوں سے ایسے تبصرے سننےکو ملتے کہ پاگل ہونے کو جی چاہتا۔ لیکن میں نے کبھی اس کی پرواہ نہیں کی۔ کتابوں سے میں نے دوستی میں‌رکاوٹ نہیں‌آنےدی۔ ابو نے شروع میں تو کافی منع کیا کہ ہر وقت کہانیوں میں‌ گم نہ رہا کرو لیکن میرا جنون دیکھ کر چپ ہوتے چلے گئے۔
کہانیاں، ناول اور ڈائجسٹ جمع کرنے کا مجھے شروع ہی سے شوق رہا۔ چند سال پہلے میری عادت تھی کہ ردی والے سے روزانہ ڈائجسٹ خرید لاتا۔ اس سے پہلے ایک لائبریری والے سے ڈائجسٹ خریدتا رہا، تین چار ڈائجسٹ روزانہ کے حساب سے لیتا دیکھ کر لائبریرین نے ایک دن کہا کہ کیوں نہ ایک بار سب ڈائجسٹ لے لو، میں پہلے تو حیران ہوا پھر اس کی حوصلہ افزائی دیکھ کر کئی سو روپوں میں کتابوں کی بوری خرید لی۔ گھر میں داخل ہوا تو گویا قیامت آگئی، والد صاحب، والدہ دادی اور تو اور بیگم بھی برس پڑیں۔
میں نے شروعات بچوں کی کہانیوں اور ناولوں سے کی اور تان ڈائجسٹ پر آن کر ٹوٹی۔ وجہ شاید اس کی یہ کہ ڈائجسٹوں میں ترجمہ شدہ کہانیاں پڑھنے کو ملتی تھیں اور نت نئے آئیدیاز بھی ملتے تھے ورنہ پھر وہی منٹو، احمد ندیم قاسمی، عصمت چغتائی وغیرہ وغیرہ۔
ہم افسانے میں تو ترقی کرسکے لیکن کہانی میں اس لیے شاید مات کھا گئے کہ ایک تو بڑے بڑے نام طویل داستانیں نہیں لکھتے تھے اور دوسرا ڈائجسٹ میں لکھنے والا مصنف ادب کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، اس کے ذکر پر ناک بھوں چڑھائی جاتی تھی۔
قمر اجنالوی صاحب نے تاریخی داستانوں کو کچھ ایسے ڈھنگ اور محبت بھرے انداز میں لکھا کہ ایک زمانہ انکا گرویدہ رہا۔ ان کے ناولوں میں وہ سب کچھ ملتا ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے حسن و عشق، جنگ و جدل، طلسم اور لاجواب پلاٹ، جس کے بل پر کہانی جوں جوں آگے بڑھتی ہے دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی جاتی ہیں۔
ترجمہ کرنے والے کو ویسے ہی ہم بے ادب قرار دیتے ہیں حالانکہ ایسے ایسے ترجمے ہوئے ہیں جو کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں۔ تیرتھ رام پوری نے شاید عذرا کی واپسی کا ترجمہ کیا تھا۔ اس داستان پر ترجمہ کا گمان ہرگز نہیں گزرتا بلکہ طبعزاد ناول لگتا ہے۔ میں اس کی زبان کی شیرنی آجتک نہیں‌بھولا۔ ڈریکولا کے ناول کو ایک صاحب نے ترجمہ کیا تھا اور کیا خوب ترجمہ تھا ایک ایک لفظ پڑھنے کے لائق تھا۔ یہ تو ابن صفی کو دعائیں دیں جس نے ایک نئی راہ سجھائی ورنہ ہم ترجموں کے شاہکارہی تخلیق کرتے رہتے۔‌‌

مصنف: شازل
05 - اگست - 2010

کہیں وہ تو ناراض نہیں؟

کراچی میں ایک بار پھر حالات خراب ہوگئے ہیں۔ ایک طرف پورا ملک سیلاب کی لپیٹ میں ہے، لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں اموات ہوچکی ہیں، دوسری طرف خود کش حملے بھی جاری ہیں اور ٹارگٹ کلنگ بھی اسی ٹیمپو کے ساتھ جاری ہے۔ کراچی کے حالات اتنےگمبھیر نہیں کہ کنٹرول نہ ہوسکیں لیکن سیاسی مجبوریاں جب حائل ہونے لگیں تو وہ کچھ ہوگا جو ہو رہا ہے۔ اس ملک کا ہر زی شعور بندہ جانتا ہے کہ کون اس قتل و غارت گری کے پیچھے ہے لیکن ٹی وی چینلز دیکھیں اور اخبارات کو اٹھا کردیکھ لیں‌ کسی میں بھی اتنی جرات نہیں کہ کھل کر قاتلوں کا نام بھی لیں۔ بارہ مئی کے واقعات ہوں یا جاری و ساری تشدد، ایک ہی گروہ قاتلاں اس کے پیچھے ہے لیکن سب کچھ جانتے بوجھتےبڑبولے ٹی وی اینکرز بھی خاموش ہیں۔ سپریم کورٹ بھی تماشا دیکھ رہی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتیں مصلحتوں کا شکار ہیں۔ تو پھر کون ہے جو اس غارت گری کو بند کرے گا۔ ایک اللہ سے امید ہے جو ہمیں اس مصیبت سے نکال سکتا ہے لیکن دریاؤں کا بپھرا پن بھی خدا کی ناراضگی کا پیغام ہے۔ یعنی اس وقت پوری دنیا ہم سے ناراض ہے۔ حتٰی کہ ہم اپنے اللہ کوبھی ناراض کر چکےہیں تو پھر کیا کیا جائے۔ سب کچھ اسی طرح دیکھتے رہیں اور سہتے رہیں۔ نہیں‌بلکہ اپنے رب کی ناراضگی کو دور کریں۔ اس وقت ہمارا دین ہی ہے جو ہم سب کو عذاب سے نکال سکتاہے۔ اس رسی کو تھام لیں جوہمارے دشمنوں نے ہم سے دور کردی ہے۔

مصنف: شازل
04 - اگست - 2010

اپنے وطن میں

میں‌کھانے میں جب بھی تیز مرچ محسوس کرتا ہوں‌ تو مجھے لاہور کی یاد آجاتی ہے، ایک شام جب ہم داتا دربار اور مینار پاکستان کی سیر کو تھک چکے تھے اور آنتوں نے قل ہو اللہ پڑھنا شروع کردیا تھا ہم ایک سڑک کنارے ہوٹل پر کھانا کھانے پہنچے۔ پہلے ہی نوالے نے ہمارے چودہ طبق روشن کر ڈالے۔ چند نوالے تو ہم نے جیسے تیسے زہر مار کیے لیکن پھر ہمت جواب دے گئی۔ اب کی بار دال کا آرڈر دیا، لیکن اس میں بھی مرچیں شرط بد کر ڈالی گئی تھیں۔ دوسرے لوگ بڑے اطمینان سے کھانا کھا رہے تھے، انہیں‌جیسے پرواہ ہی نہیں‌تھی۔ ہوٹل سے یوں نکلے گویا منہ سے شعلے نکل رہے ہوں۔ پانی بھی ان شعلوں کو نہ بجھا سکا تھا۔
ایک صبح ہوٹل سے باہر آئے تو دیکھا، ایک عورت پراٹھے پکا رہی ہے، فورا ماں یاد آئی تو دل مچل اٹھا، پراٹھے کے ساتھ ناشتہ بہت دن بعد کیا، ہر نوالے کے کے ساتھ ماں‌یاد آتی رہی۔ ناشتہ کرکے اٹھا تو جی بہت اداس تھا میں‌ نے ماموں سے کہا کہ بس آج کا دن ہے کل گھر چلیں گے۔ انہوں‌نے غور سے میری طرف دیکھا اور زیر لب مسکرا دیے۔ دوسرے دن بس میں واپس جارہے تھے تو ایک صاحب طلسمی گولیاں بیچنے کے لیے داخل ہوئے، ان کی ایک بات اب بھی یاد ہے ، اللہ شافی، اللہ کافی ، اللہ معافی۔
لاہور میں یوں‌تو بہت سے تفریحی مقامات ہیں لیکن شاہی قلعہ کی کیا بات ہے اس بار بیگم بھی ساتھ تھیں۔ اور میں‌ نے انہیں‌اس گرمی میں بھی برقعہ اوڑھا رکھا تھا۔ کئی عورتوں‌نے ہمیں‌گھور کر دیکھا تھا مگر دیکھنے سے مجھے کیا فرق پڑنے والا تھا۔ تھوڑی دیر بعد پیاس نے ستایا تو بیگم نے ہولے سے مجھے ٹھہوکا دیا، میں‌نےا دھر ادھر دیکھا تو ایک مختصر سی فیملی جو عورتوں پر ہی مشتمل تھی ، ان کے پاس پانی کی بوتل موجود تھی۔ میں نے پانی مانگا تو انہوں نے لیت ولعل سے کام لیا، مجھے تاؤ آگیا ، کہا آپ ہمیں پانی بھی نہیں‌دےسکتیں، میرے لہجے کی درشتی نے انہیں پانی دینے پر مجبور کردیا، خدا جانے وہ ڈر گئی تھیں یا انہیں‌رحم آگیا تھا۔ کچھ لمحوں بعد میں دیکھا کہ ایک لڑکی اور میری بیگم آپس میں گہری سہیلیوں کی طرح‌باتیں کررہی ہیں، میں نے بے اختیار ایک طویل سانس لی، عورتیں‌جہاں‌ملتی ہیں‌باتوں‌سے باز نہیں‌آتیں۔ جہاں دوچار لمحے فرصت کے میسر آئے ان کی باتیں شروع ہو گئیں۔ عورتوں کی مٹی پتا نہیں‌کہاں‌سے اٹھائی گئی تھی۔
ہم نے سیر و تفریح تو خوب کی لیکن باوجود بیگم کے اصرار کے داتا دربار نہیں لے کر گیا، کیونکہ میرا موقف تھا کہ ایک تو وہاں‌بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے اور دوسرے عقیدت مند کچھ بدعت کی طرف بھی مائل لگتے ہیں۔
دربار کی بات چل نکلی ہے تو ملتان کا ذکر بھی کرتا چلوں، ابھی حال ہی میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے پہلے جانے کا اتفاق ہوا، بیگم اس بار بھی ساتھ ہی تھیں۔ ان کے خیال میں سفر اکیلے نہیں‌کرنا چاہئے، (ان کی اس منطق کو فی الحال میں نے سند قبولیت بخشی ہوئی ہے) سر شام ہی بارش نے آلیا، میں چھت سے یوں اترا کہ تقریبا بھیگ چکا تھا(اس میں کچھ میری مرضی بھی شامل تھی)شکر ہے کہ بیگم بھی شاپنگ سے جلد ہی واپس آگئیں، ماموں کے اس اعلان کے بعد کے آج آپ کا واپس جانا مشکل ہے میری تو سٹی گم ہوگئی۔ میں نے صبح دفتر حاضری دینا تھی۔ البتہ بیگم کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ اس بات سے خوش ہیں۔ میں بھلا اتنی آسانی سے ہار ماننے والا کہاں تھا۔ باہر ٹیکسی کے لیے نکلے تو کوئی بھی نئے اڈے پر جانے کے لیے تیار نہیں‌تھا۔ آخر ایک رکشے والا مل ہی گیا لیکن دگنا کرایہ مانگ رہا تھا ، کچھ دیر پس وپیش دکھانے کے بعد میں نے حامی بھر لی۔ ہر طرف جل تھل تھی ۔ کسی طرف سے لگتا ہی نہیں‌تھا کہ وزیراعظم صاحب کا شہر ہے۔ کچھ گلیوں کے گزرنے کے بعد رکشے والے نے شارٹ کٹ کی ٹھانی اور ایک تاریک گلی میں رکشے کو پانی میں گھسا دیا۔ میری بیگم کی زبان مسلسل قرآنی آیات کا ورد کررہی تھی۔ آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ رکشہ ایک جگہ پانی میں ٹھہر گیا۔ کافی تگ و دو کے باوجود رکشے نے اسٹارٹ ہو کےہی نہ دیا۔ ناچاررکشے والے نے میری طرف دیکھا اور واپسی کےلیے رکشے کو موڑ کر دھکیلنے لگا۔ میں نے اس کا ساتھ دینے کی کوشش کی لیکن اس کے منع کرنے پر اندر دبکا رہا۔ اور جب ایک جگہ رکشہ نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا تو اس نے مجھے مدد کے لیے کہا۔ میں رکشہ سے نکلا اور غڑاپ سے پانی کے اندر گھنٹوں سے کچھ نیچے کھڑا تھا۔ اب کیفیت یہ تھی کہ بیگم رکشے کے اندر بیٹھی تھیں اور میں اور بے چارا رکشہ ڈرائیور رکشے کو دھکیل رہے تھے۔ میں اس وقت کو کوس رہا تھا جب اڈے پر جانے کا ارادہ کیا تھا۔ میں نے وقت دیکھا تو صرف پندرہ منٹ رہتے تھے آخری گاڑی کے جانے میں۔ اور میں‌نے اب سمجھ لیا کہ جانا بیکار ہے ہمیں‌واپس آنا پڑے گا۔ دوتین آتے جاتے رکشوں کو روکنے کی کوشش آخر رنگ لائی ۔ اور ہم ایک بار پھر منزل کی طرف روانہ ہوگئے ۔ پانی چاروں طرف سے یوں بھرا ہوا تھاکہ جیسے دریا میں سفر کررہے ہوں، بالاخر کئی جگہوں پر رکشہ بند ہونے کے باوجود ہم اڈے پر جاہی پہنچے مگر آدھ گھنٹہ لیٹ۔ میں نے اسی رکشہ سے واپسی کا ارادہ کیا مگر بیگم کے اصرار پر اس رکشہ والے کو خدا حافظ کہا۔ تھوڑی ہی دور گئےہونگے کہ مطلوبہ گاڑی یوں سامنے آگئے کی بے اختیار سجدے میں گرجانے کو جی چاہا۔ بیگم کی دعائیں کام آگئی تھیں۔ ان کی اس بات سے میں کچھ تو قائل ہو گیا تھا کہ بندے کو اکیلے سفر نہیں کرنا چاہئے۔ واپسی کا سفر ہمیشہ کی طرح تھا یعنی ان کا سر میرے کندھے پر مسلسل رہا اور میں‌سونے کی کوشش کرنے کے باوجود سو نہ پایا۔ اس حالت میں نیند آنے کا سوال ہی نہیں‌ تھا۔

مصنف: شازل
30 - جولائی - 2010

انتہا پسند

ایک شخص نیویارک کے سنٹرل پارک میں ٹہل رہا تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹی بچی پر بل ڈاگ نے حملہ کردیا ہے۔ وہ کتے کو روکنے کے لیے بھاگا۔ ۔ ۔ اس دھینگا مشتی میں‌ لڑکی کی جان تو بچ گئی لیکن کتا جان سے گیا۔ ایک رپورٹر جو وہاں سے گزر رہا تھا اس نے تمام واقعہ ملاحظہ کیا۔ وہ اس شخص کے پاس آیا اور کہا “تم ایک ہیرو ہو، کل تمام اخبارات میں یہ لکھا ہوگا کہ کس طرح ایک نیو یارکر نے ایک بچی کی جان بچائی“۔
“لیکن میں‌نیویارکر نہیں‌ہوں“ اس شخص نے وضاحت کی۔
“اوہ! تب تم یہ خبر ملاحظہ کرو گے کہ ایک بہادر امریکی نے کس طرح ایک بچی کی جان بچائی“۔ رپورٹر نے کہا۔
“لیکن میں امریکن بھی نہیں‌ہوں“۔ اس شخص کی طرف سے جواب ملا۔
“تو تم کس جگہ سے تعلق رکھتے ہو؟“ رپورٹر جھلا گیا۔
وہ شخص بولا “میں ایک سعودی ہوں“۔
دوسرے دن اخبارات کی سرخی تھی۔ “اسلامک انتہا پسند نے سنڑل پارک میں کتے کو موت کی نیند سلا دیا“۔

مصنف: شازل
29 - جولائی - 2010

مووی فلکرننگ: ایک حل

چند دن پہلے ایک فلم ڈاؤنلوڈ کی تھی جسے دیکھنے کی حسرت ہی رہی کیوں کہ تصویر بار بار جھپکتی (فلکرننگ کرتی) تھی اور ایک جگہ ٹھہر کے نہیں دیتی تھی۔ صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن اتنا کیا کہ فلم کو ڈیلیٹ نہیں‌کیا۔ کل اچانک ہی اس کا حل مل گیا۔ میں ٹورینٹ پر سرچ کررہا تھا کہ بالکل اسی قسم کا مسئلہ سامنے آگیا۔ سو حل حاضر ہے
سب سے پہلے آپ VLC Media Player کو انسٹال کریں۔ انسٹال کرنے کے بعد اس فلم کو وی ایل سی پلیئر میں کھولیں جو کہ فلکرننگ کررہی ہے۔ مینو میں ٹولز پر کلک کریں اور پھراسی مینو میں Effects and Filters پر۔ نئی ونڈو سامنے آجائے گی جہاں پر آپ نے Video Effects کے ٹیب کرکلک کردینا ہے۔ یہاں ذیلی ٹیب امیج موڈیفکیشن کے نام کی ہوگی، اس پر جاکر Motion Blur کے آگے چیک لگا کر نیچے سلائیڈر کو کافی درمیان میں کردینا ہے، یعنی کم کردینا ہے اور پھر اپلائی کردیں۔ اس سے فلم بالکل اسموتھ طریقے سے دکھائی دے گی۔ آپ اپنے مطابق سلائیڈر میں کمی بیشی کرسکتے ہیں امید ہے کہ یہ چھوٹی سے ٹپ آپ کے بہت کام آئی گی۔

مصنف: شازل
27 - جولائی - 2010

گوگل امیجز: بنگ ؟ شاید!

لو جی گل ای مک گئی۔ گوگل نے بنگ کی دیکھا دیکھی گوگل امیجز کی بناوٹ بھی تبدیل کردی ہے۔ میں نے ایک پوسٹ کچھ اسی قسم کی پہلے بھی لکھی تھی کہ کس طرح گوگل نے بنگ کی دیکھا دیکھی بیک گراونڈ کا آپشن دیا تھا۔ جوابا بہت سے دوستوں‌ نے اعتراض کیا تھا کہ آسک جیوز (شاید) پہلے ہی اس قسم کی سہولت دے رہا تھا۔ اب میں کیا کروں کہ گوگل امیجز بھی بالکل بنگ ہی کی طرح امیجز ڈسپلے کررہا ہے۔(انداز پھر بھی بنگ کا علیحدہ ہی ہے )اور سچ مانئے کہ یہ بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔ گوگل نے پتا نہیں‌کس کو فالو کیا ہے یا نہیں‌لیکن پس منظر میں بنگ ہی دکھائی دے رہا ہے۔ چند روز میں شاید کوئی اور تبدیلی بھی دکھائی دے جو صرف بنگ کا ہی خاصا ہے ایک بات ہے کہ گوگل ، گوگل ہے چاہے کتنے ہی بنگ اس کے مقابل آجائیں لیکن دور کہیں ایک ایسی سوچ بھی موجود ہے جو بنگ کو سراہتی ہے